پاکستان رقبے کے لحاظ سے دنیا کے بڑے بڑے ممالک کے سامنے ایک چھوٹا سا ملک ہے۔ مگر اتنے چھوٹے سے ملک میں بھی ہر چند سو کلومیٹر بعد موسم اور زمین بدلتی جاتی ہے۔

ملک کے چاروں صوبوں میں بہت ہی خوبصورت نظاروں سے مالا مال علاقے موجود ہیں۔ بلوچستان سے لے کر کشمیر تک انتہائی خوبصورت مقامات موجود ہیں جہاں ملکی اور غیر ملکی سیاح یادوں کو تخلیق کرنے آتے ہیں۔

گزشتہ ڈیڑھ دہائیوں سے ملکی حالات بدل جانے کی وجہ سے اب چند مخصوص وادیوں پر ہی سیاحوں کی آمد ہوتی ہے۔ انہی وادیوں میں سے ایک وادئ نیلم ہے۔ جہاں آخری مرتبہ ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے اب تک ہزاروں یا شاید لاکھوں لوگ جا چکے ہیں۔

اس وادی کا صدر مقام آٹھ مقام ہے۔ آٹھ مقام مظفر آباد سے چار گھنٹوں کی مسافت پر موجود ایک خوبصورت شہر ہے۔ وادی نیلم میں آٹھ مقام کے بعد شاردا اور کیل دو بڑی آبادی والے شہر ہیں۔

کیل سے جینوائی جاتے وقت ایک نالہ دریائے نیلم کی زینت کا باعث بنتا ہے — تصویر اعجاز بھٹی
کیل سے جینوائی جاتے وقت ایک نالہ دریائے نیلم کی زینت کا باعث بنتا ہے — تصویر اعجاز بھٹی

دریائے نیلم کے ہمراہ چلتے چلتے وادی کی خوبصورتی تہہ در تہہ کھلتی جاتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ نیلم پاکستان کی خوبصورت ترین وادی کہلانے کا حق اپنے پاس رکھے ہوئے ہے۔

یہ وادی ندی نالوں، آبشاروں، چشموں اور گھنے جنگلات کا مجموعہ ہے اور وادی کے ساتھ بہنے والا نیلم کا دریا تو اس وادی کے جھومر کی حیثیت رکھتا ہے۔

وادی نیلم میں ایک محتاط اندازے کے مطابق 20 سے 30 چھوٹی بڑی جھیلیں ہیں۔ (اس وادی کے متعلق زائد معلومات شاید اس وجہ سے بھی منظر عام پر نہیں آئی ہیں کیونکہ وادی کا زیادہ تر علاقہ ہندوستانی سرحد سے ملحقہ ہے اور سیز فائر سے قبل اکثر و بیشتر علاقہ حالت جنگ میں ہی رہا ہے)۔

وادئ نیلم میں دیواریاں (رتی گلی/برکاتیہ)، پتلیاں، دھاریاں، سرال اور چٹا کٹا عام طور پر مشہور جھیلیں ہیں۔

غیر معروف جھیلوں میں راہ والا سر، باٹاکنالی سر، مائی ناردا، مچک، موری اور ڈک جھیل جیسی دیگر جھیلیں موجود ہیں۔

ہائیکنگ کا شوق رکھنے والوں کے لیے یہ ایک بہت ہی خوبصورت اور وسیع وادی ہے۔ وہاں بے شمار ایسے علاقے موجود ہیں جنہیں مقامی لوگوں کے مطابق بہت ہی کم اور بعض مقامات کو شاید ہی کسی ہم وطن نے تسخیر کیا ہو۔

ان خوبصورت وادیوں میں سے ایک گریز کی وادی ہے۔ یہ خوبصورت وادی قریب پندرہ دیہات پر مشتمل ہے اور اس کے تین حصے ہیں، جن میں سے ایک حصہ مقبوضہ کشمیر میں بانڈی پورہ ضلعے میں شامل ہے جبکہ پاکستان میں ایک حصہ وادی نیلم اور دوسرا حصہ گلگت بلتستان میں شامل ہے۔ اس طرح بے نظیر خوبصورتی کی حامل وادیاں وطنِ عزیز کے حسن میں مزید اضافہ کر دیتی ہیں۔

جینوائی اور جندر والا ناڑ (نالہ) — تصویر اعجاز بھٹی
جینوائی اور جندر والا ناڑ (نالہ) — تصویر اعجاز بھٹی
جندر نالہ کے ساتھ ساتھ پہلے گاؤں کی جانب جاتے ہوئے — تصویر اعجاز بھٹی
جندر نالہ کے ساتھ ساتھ پہلے گاؤں کی جانب جاتے ہوئے — تصویر اعجاز بھٹی

کیل سے تاؤبٹ جاتے وقت جینوائی، پھلاوائی، سرداری، سوناڑ، ہل مت، نیکرو اور تاؤبٹ وادی گریز کے خوبصورت ترین گاؤں ہیں۔

کیل سے جینوائی گاؤں کا فاصلہ قریب 20 کلومیڑ (کیل اور تاؤبٹ کے نصف) ہے جو تقریباً 7000 فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ گاؤں سے شمال کی جانب پاتال کی طرف نگاہ کرنے پر ایک بہت ہی اونچا پہاڑ نظر آتا ہے۔ اسی پہاڑ کے ساتھ جینوائی کی خوبصورت جھیل موجود ہے ۔

جھیل کا نام مقامی لوگوں نے ڈک سر رکھا ہے۔ جھیل کی طرف جاتے وقت آخری گاؤں چورپڑی کے بعد وادی بند سی ہوجاتی ہے اور مقامی زبان میں بند جگہ کو ڈک کہتے ہیں۔

یہی ڈک جھیل کی وجہ تسمیہ ہے۔ جینوائی گاؤں سے شمال کی جانب سے جندراں والا ناڑ (نالہ) کے ہمراہ چلتے ہوئے قریب 4 گھنٹے کے بعد پہلا گاؤں پھر دوسرا اور پھر آخری گاؤں چور پڑی آتا ہے۔

دوسرے گاؤں سے بھی جھیل کے لیے ہائیکنگ کی جاسکتی ہے مگر راستہ انتہائی اونچائی والا اور دشوار ہے۔ چور پڑی گاؤں سے قدرے آسان راستہ موجود ہے۔ جینوائی سے چور پڑی گاؤں پہنچنے میں کم سے کم پانچ گھنٹے لگ جاتے ہیں۔

جندر نالہ میں دیگر چھوٹے نالے بھی گرتے رہتے ہیں— تصویر اعجاز بھٹی
جندر نالہ میں دیگر چھوٹے نالے بھی گرتے رہتے ہیں— تصویر اعجاز بھٹی
ایک بڑے پتھر کی اوٹ میں کیمپنگ سے لطف اندوز ہوتے ہوئے— تصویر اعجاز بھٹی
ایک بڑے پتھر کی اوٹ میں کیمپنگ سے لطف اندوز ہوتے ہوئے— تصویر اعجاز بھٹی
راہ چلتے ایک خوبصورت منظر— تصویر اعجاز بھٹی
راہ چلتے ایک خوبصورت منظر— تصویر اعجاز بھٹی

جینوائی سے چور پڑی تک اندازاً 3 ہزار فٹ کی چڑھائی کرنی پڑتی ہے۔ لہٰذا تھکاوٹ کی وجہ سے رات گاؤں میں قیام کرنا مناسب رہتا ہے۔

اس ضمن میں یہ عرض کرنا مناسب اور ضروری سمجھتا ہوں کہ وادئ نیلم کے مکین انتہائی مہمان نواز اور اپنے اطوار و اخلاق کی پاسداری کرنے والے لوگ ہیں۔ مہمان دیکھ کر بہت ہی خوش ہوتے ہیں، کم وسائل کے باوجود مہمان کی خاطر داری کرنے کے عادی ہیں۔

ایک بار جب ہم ایک وادی میں سے شام کے وقت گزر رہے تھے تو دو تین بچوں نے ہم سے ہمارے ہائیکنگ بیگ کھینچنا شروع کردیے، ہم نے سوچا کہ شاید وہ ہم سے کچھ مانگ رہے تھے لیکن دراصل وہ ہمیں شام ہونے کی وجہ سے اپنے گاؤں میں ٹھہرانے کے لیے بضد تھے۔

بارش، بادل اور ہم— تصویر اعجاز بھٹی
بارش، بادل اور ہم— تصویر اعجاز بھٹی
ایک بکروال کا کیمپ— تصویر اعجاز بھٹی
ایک بکروال کا کیمپ— تصویر اعجاز بھٹی

اگلی صبح ہوتے ہی جھیل کو جاتے ایک سخت اور انتہائی دشوار گزار راستے پر چلنے کے لیے تیار ہوجائیں۔ پانی کی بوتل، ڈے پیک اور برساتی ضرور رکھ لیں۔

بارش میں اس راستے پر چلنا اپنی جان جوکھم میں ڈالنے کے برابر ہے۔ لہٰذا موسم صاف ہونے پر ہی جھیل کی طرف چڑھائی شروع کرنی چاہیے اور اپنے ساتھ کوئی مقامی گائیڈ یا راہبر ضرور رکھیں۔

پہلے 2 گھنٹے سیدھی چڑھائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے تھکاوٹ کا احساس بڑھتا جاتا ہے اور پھر ایک گھنٹہ قدرے کم چڑھائی ہے، بعد ازاں انتہائی خطرناک راستے سے گزرنا پڑتا ہے جو مقامی گائیڈ شاہ زمان اور بشارت کے مطابق بکریوں کے گزرنے کا راستہ ہے۔ یہاں سے پہاڑ پر لگی جڑی بوٹیوں کو مضبوطی سے پکڑ کر گزرنا پڑتا ہے اور آخر میں بڑے بڑے پتھروں والا راستہ اس چڑھائی کو مزید دشوار بنا دیتا ہے جہاں اگر احتیاط نہ برتی جائے تو زخمی ہونے کا اندیشہ رہتا ہے ۔

چور پڑی کا گاؤں —تصویر اعجاز بھٹی
چور پڑی کا گاؤں —تصویر اعجاز بھٹی
جھیل جاتے وقت پہلی چڑھائی—تصویر اعجاز بھٹی
جھیل جاتے وقت پہلی چڑھائی—تصویر اعجاز بھٹی

چڑھائی کے دوران اتنی مشکلات کا سامنا کرتے وقت ایک دو مرتبہ خیال آیا کہ واپس بیس کیمپ لوٹا جائے مگر ہمارے ایک دوست کے مطابق یہی تو وہ وقت ہوتا ہے جب دراصل ہائیکنگ کے صحیح معنوں میں پیسے وصول ہوتے ہیں۔

بہرکیف 4 گھنٹے سے کچھ زائد چڑھائی عبور کرنے کے بعد جھیل کا نیلگوں پانی نظر آنا شروع ہو جاتا ہے اور اتنی خوبصورت جھیل کو دیکھ کر تھکاوٹ کہاں چلی جاتی ہے، پتہ بھی نہیں چلتا۔

جھیل جاتے وقت پہلی چڑھائی کا ایک اور منظر —تصویر اعجاز بھٹی
جھیل جاتے وقت پہلی چڑھائی کا ایک اور منظر —تصویر اعجاز بھٹی
دوسری چڑھائی چڑھنے کے بعد ایک خوبصورت منظر —تصویر اعجاز بھٹی
دوسری چڑھائی چڑھنے کے بعد ایک خوبصورت منظر —تصویر اعجاز بھٹی
جھیل سے قبل آنے والے خطرناک بڑے بڑے پتھروں کو عبور کرنا کسی خطرے سے خالی نہیں —تصویر اعجاز بھٹی
جھیل سے قبل آنے والے خطرناک بڑے بڑے پتھروں کو عبور کرنا کسی خطرے سے خالی نہیں —تصویر اعجاز بھٹی

جھیل کا قطر تقریباً دو سے ڈھائی کلومیٹر ہے۔ انتہائی بلندی پر ہونے کی وجہ سے پانی شدید ٹھنڈا ہوتا ہے اور غنیمت ہی ہوگی جو دھوپ نکل جائے اور تصویر کاری کا بھرپور موقع ملے۔

جھیل پر پہنچ کر یوں لگتا ہے جیسے وقت ٹھہر سا گیا ہو اور انتہائی پرسکون ماحول شاید ہی کسی اور جگہ فراہم ہو۔ اگر شام ہو جانے کا ڈر نہ ہوتا تو شاید تھوڑا زیادہ وقت وہاں رک جاتے۔

بہرحال جلد ہی واپس بیس کیمپ لوٹ آئے اور یوں مقامی آبادی کے مطابق ہم پہلے غیر مقامی ہائیکرز تھے جو اس جھیل تک پہنچنے میں کامیاب رہے تھے۔

ڈک جھیل—تصویر اعجاز بھٹی
ڈک جھیل—تصویر اعجاز بھٹی
ڈک جھیل—تصویر اعجاز بھٹی
ڈک جھیل—تصویر اعجاز بھٹی
آؤ اک سجدہ کریں عالم مدہوشی میں —تصویر اعجاز بھٹی
آؤ اک سجدہ کریں عالم مدہوشی میں —تصویر اعجاز بھٹی
ایک محتاط اندازے کے مطابق ڈک جھیل کی اونچائی قریباً تیرہ ہزار فٹ ہے—تصویر اعجاز بھٹی
ایک محتاط اندازے کے مطابق ڈک جھیل کی اونچائی قریباً تیرہ ہزار فٹ ہے—تصویر اعجاز بھٹی

اس میں کوئی شک نہیں کہ وادئ نیلم کی اس گمنام جھیل کی سحر انگیزی، دلکشی اور خوبصورتی کا دل ایک طویل عرصے تک گرویدہ رہے گا۔